مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: ہفتہ وحدت کے حوالے سے گذشتہ دنوں ایران کے دارالحکومت تہران میں وحدت مسلمین کانفرنس ہوئی جس میں مختلف ممالک سے سینکڑوں علماء، دانشور اور مفکرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکاء نے موجودہ دور میں مسلمان ممالک اور امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پر زور دیتے ہوئے امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنے کی تاکید کی۔
مہر نیوز نے اس موقع پر جمعیت علماء پاکستان بلوچستان کے رہنما مولانا انوار الحق حقانی سے موجودہ حالات اور عالم اسلام کے مسائل کے بارے میں خصوصی گفتگو کی جس کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:
مہر نیوز: حالیہ واقعات اور عالم اسلام کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتہ وحدت کی اس کانفرنس کے انعقاد اور اس کی اہمیت کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟
مولانا انوار الحق حقانی: یہ تاثر بالکل درست نہیں کہ مسلمان یا مختلف مکاتبِ فکر اور فرقے ایک ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر تہران کی اس کانفرنس کو ہی دیکھ لیجیے، جہاں دنیا بھر سے اہل سنت کے اکابرین، علماء، دانشور اور محققین کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کے جلیل القدر علماء بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ ہم آہنگی صرف ایک مقام تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس نوعیت کی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہتی ہیں جن میں امت مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر کی نمائندگی ہوتی ہے۔ خود پاکستان میں بھی وقتاً فوقتاً ایسے اجتماعات ہوتے رہتے ہیں جہاں تمام مکاتب فکر کے علماء اور اکابرین ایک ساتھ بیٹھ کر مشترکہ موقف اختیار کرتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال اسلامی جمہوری ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا معاملہ ہے۔ جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے وہاں کی قیادت کو نشانہ بنایا اور کئی قد آور شخصیات کو شہید کیا، تو اس پر پورے عالم اسلام اور پاکستان میں شدید احتجاج ہوا۔ تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام نے اس کی بھرپور مذمت کی، جلسے جلوس نکالے اور ایرانی سفارت خانوں میں جا کر یکجہتی کا اظہار کیا۔
اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو چونکہ ہمارا تعلق کوئٹہ سے ہے، اس لیے ہم نے خود قونصلیٹ جا کر تعزیت کی اور جمعہ کے اجتماعات میں اس جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے امت کی وحدت پر زور دیا۔ اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن، جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، بریلوی مکتب فکر اور اہل تشیع کے جلیل القدر علماء نے ایرانی سفارت خانے جا کر مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
گزشتہ چالیس سال سے زائد عرصے سے اسرائیل خود کو مکمل طور پر محفوظ تصور کرتا تھا اور فلسطین و غزہ کے نہتے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑتا رہا۔ ان کے گھر اور ہسپتال تک تباہ کر دیے گئے اور معصوم لوگ بے گھر ہوئے۔ لیکن یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ جب ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے تو وہاں عمارتیں تباہ ہوئیں اور جانی نقصان ہوا۔ اسرائیلی عوام خوف کے مارے گھروں سے نکل کر سڑکوں اور پارکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ان کی بزدلی کا یہ عالم تھا کہ وہ زمین پر لیٹ جاتے تھے تاکہ نشانہ نہ بنیں۔ وہ ایک شہر سے دوسرے شہروں کی طرف بھاگے، ہوائی جہازوں کے ٹکٹ نایاب ہوگئے اور ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہوگئے۔ اس طرح اسرائیل کی وہ طویل المدتی پالیسی بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی جس کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر وہاں آباد کیا جاتا تھا۔
دوسری جانب امریکہ کا غرور اور تکبر بھی خاک میں مل گیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ حملہ کریں گے، ان کا پیسہ اور اسلحہ کام آئے گا، ایران سے کچھ اندرونی غدار مل جائیں گے اور دو چار دنوں میں حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی پسندیدہ حکومت قائم کر دیں گے۔ یہاں تک کہ ایران کے سابق شہنشاہ کا بیٹا بھی اقتدار سنبھالنے کے خواب دیکھنے لگا تھا۔ لیکن الحمدللہ، یہ تمام سازشیں ناکام ہوئیں۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایران کی حکومت پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم اور قائم دائم ہے، جبکہ امریکہ کی ناکامی کا یہ عالم ہے کہ وہ اب مذاکرات کی بھیگ مانگ رہا ہے۔
اس موقع پر میں یہ بھی کہوں کہ چونکہ میرا تعلق پاکستان سے ہے، داخلی سطح پر اختلافات اپنی جگہ، لیکن بحیثیت مجموعی پاکستان کی حکومت اور ریاست کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی مثبت اور سراہنے کے قابل کردار ادا کیا۔ ہمارے وزیر اعظم اور آرمی چیف نے صلح و مصالحت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں، سفارتی آمد و رفت ہوئی ایرانی قیادت بھی آئی، امریکہ کے شیاطین بھی آئے۔ تو بہرحال مسلمانون کے درمیان ایک دوسرے سے قربت قائم ہے۔ ہم پرامید ہیں کہ ان شاء اللہ مستقبل میں یہ نزدیکی اور اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔
مہر نیوز: چالیس روزہ جنگ کے بعد آپ پہلی مرتبہ تہران آئے ہیں تو آپ نے کیا دیکھا؟ یہاں آنے سے پہلے کیا سوچ رہے تھے؟
مولانا انوار الحق حقانی: آج کل میڈیا کا دور ہے، اس لیے ایران کے حالات اور ہونے والے نقصانات کی معلومات ہمیں پاکستان میں بھی ملتی رہیں۔ ایئرپورٹ سے آتے ہوئے ہم نے ایک جگہ ایک سکول یا یونیورسٹی کی مکمل تباہ شدہ عمارت بھی دیکھی، لیکن اس کے باوجود عام تاثر کے برعکس یہاں کوئی خوف یا پراگندگی نہیں۔ الحمدللہ، تہران میں بالکل خیر خیریت ہے، لوگ حوصلے اور ہمت سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ جنگ کے فوراً بعد اس نوعیت کی بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس کا انعقاد اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ ایرانی قوم قوی ہے۔ وہ نہ گھبرائی ہے اور نہ ڈری ہے۔ ایرانی اپنے تمام معمولات زندگی اور پروگرام حسب روایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ فتح و کامرانی مسلمانوں کا مقدر بنے گی۔
مہر نیوز: بیداری اسلامی اور اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے جو شہید آیت اللہ خامنہ ای کا جو کردار ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
مولانا انوار الحق حقانی: ان کا پیغام ہمیشہ سے امت کو جوڑنے کا رہا ہے۔ میں اس سے قبل بھی یہاں تہران کانفرنسوں میں شرکت کر چکا ہوں اور یہ بات سب پر عیاں ہے کہ یہ اجتماعات کسی ایک مخصوص مکتب فکر تک محدود نہیں ہوتے۔ ان میں عالم اسلام کی بڑی بڑی دینی تحریکوں کے نمائندے، اہل سنت کے اکابر علماء، اور اہل تشیع کے جلیل القدر دانشور شرکت کرتے ہیں۔ خود ایران کے اندر سے بھی اہل سنت کے جید علماء، مجلس خبرگان کے اراکین، اور جامع مساجد کے آئمہ و خطباء اس میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران بھی انتہائی محبت اور اخوت کے ماحول میں گفتگو ہوئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ فروعی و جزوی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر امت کے عظیم مشترکات کو اجاگر کیا جائے تاکہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے قریب آسکیں۔
مہر نیوز: اس کانفرنس کے موقع پر آپ کیا خاص پیغام دینا چاہتے ہیں؟
مولانا انوار الحق حقانی: میرا تعلق ایک مذہبی مکتب فکر سے ہے اور ہماری نظر میں یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اسلام مخالف قوتیں اور ہمارے دشمن قومی، جغرافیائی یا مسلکی بنیادوں پر کوئی تفریق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ کوئی عرب ہے یا عجم، پاکستان، افغانستان، ایران، عراق یا لبنان کا رہنے والا ہے۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کوئی شیعہ ہے یا سنی۔ اگر ایک طرف حماس سنی مسلک سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے خلاف جارحیت کی گئی، تو دوسری طرف ایران، عراق اور افغانستان کے خلاف بھی حملے اور جارحیت ہوئی، یعنی دشمن نے کسی تخصیص کے بغیر سب کو نشانہ بنایا۔
اس بنا پر مسلمانوں کو اب اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ ہمیں یہ درک کرنا ہوگا کہ ہم سب سے پہلے مسلمان اور امتِ محمدیؐ ہیں۔ ہماری اصل نسبت اسلام، ایمان، قرآن، رسول اللہ کے ختم نبوت، آخرت اور اللہ کی وحدانیت پر پختہ یقین کی بنیاد پر ہے۔ یہی عظیم مشترکات ہمارے اتحاد کے لیے کافی ہیں۔ اگر ہم مل کر ان مشترکہ قدروں کا تحفظ کریں گے تو سب کا فائدہ ہے، اور اگر غفلت برتیں گے تو نقصان کسی ایک طبقے یا ملک کا نہیں بلکہ باری باری پوری امت کا ہوگا۔
مہر نیوز: شہید اسماعیل ہنیہ، شہید امام خامنہ ای اور شہید حسن نصراللہ سب کا قاتل ایک ہی ہے۔ دشمن ہمارے مشترک ہیں۔
مولانا انوار الحق حقانی: اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہمارے دشمن مشترک ہیں۔ جب ہمارے مخالفین مسلکی یا جغرافیائی فرق نہیں رکھتے، تو مسلمانوں کے اندر یہ تفریق اور فاصلے کیوں ہیں؟ مسلمان ملت واحدہ ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا واضح ارشاد ہے: "وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ" اور یہود و نصاریٰ آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کی پیروی نہ کر لیں۔
اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب جب انہوں نے ایرانی سفارت خانے جاکر تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا، تو ایک صحافی نے سوال اٹھایا کہ "آپ نے ایک شیعہ ملک کی حمایت کیوں کی؟ اس پر مولانا نے برجستہ جواب دیا کہ اگر میں ایران کی حمایت نہ کرتا، تو کیا آپ کا خیال تھا کہ میں اسرائیل کی حمایت کرتا؟ ظاہر ہے کہ ہم نے تو ایران کی حمایت کرنی تھی کیونکہ وہ مسلم بلاک کا حصہ ہے اور مسلمان ملک ہے۔ صیہونیوں اور کافروں سے ہمارا کیا رشتہ ہے؟
آپ کا تبصرہ